What's new

commissioner sargodha dr farah masood naz locked up ambulance for horn her

Imran Khan

PDF VETERAN
Oct 18, 2007
68,816
5
141,616
Country
Pakistan
Location
Pakistan
''ایمبولینس کا ہارن بجانے کی سزا''
c64fd24a4bb8375b55d47ecd14b70ed32c9456e24fd55853b99c20072cb38121.jpg


تحریر: اکرم عامر سرگودھا

پاکستان وہ ملک ہے جہاں جمہوریت ہو یا عسکری دور، ہر دور میں ملک میں افسر شاہی جسے بیوروکریسی کہتے ہیں کا راج ہوتا ہے، جو اس ملک میں سیاہ و سفید کی مالک ہے، بزرگ کہا کرتے تھے کہ گھوڑے کی پچھاڑی اور افسر کی اگاڑی سے بچنا چاہئے، کوئی پتہ نہیں گھوڑا عقب سے لات مار دے اور افسر کوئی ایسا حکم صادر فرما دے جو سامنے سے گزرنے والے کے لئے ہمیشہ کیلئے نقصان دہ ہو کر رہ جائے، پاکستان میں بیوروکریسی اتنی طاقتور ہے کہ سیاستدانوں کو بھی چکر دے کر رکھتی ہے، افسر شاہی جو چاہے اس ملک میں حکمرانوں سے منوا سکتی ہے سچ تو یہ ہے کہ ہر دور میں حکومتیں بنانے میں افسر شاہی کا اہم کردار رہا ہے، 4 دسمبر کی بات ہے کہ ایبٹ آباد پریس کلب کے نائب صدر نے سرگودھا کے صحافی شہزاد شیرازی کو فون کیا کہ ایبٹ آباد کا ایک ایمبولینس ڈرائیور آپ کے ضلع میں ڈیڈ باڈی لے کر گیا تھا پولیس نے اسے تھانہ کینٹ میں بغیر کسی مقدمہ کے بند کر دیا ہے، فون کرنے والے صحافی ساتھی کا کہنا تھا کہ ایمبو لینس ڈرائیور کے گھر والوں کے اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ سرگودھا آ کر ڈرائیور کو چھڑوا سکیں، جس پر سرگودھا کے صحافی دوست نے ایس ایچ او کینٹ کو فون کیا تو موصوف نے انہیں بتایا کہ گاڑی تھانہ ساجد شہید میں بند ہے، جس پر معلومات لی گئیں تو پتہ چلا کہ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی والوں نے یہ ایمبو لینس بند کروائی ہے، ڈرائیور موصوف کا جرم یہ ہے کہ خاتون کمشنر سرگودھا شاہپور کے دورہ پر تھیں کہ ایمبولینس کے ڈرائیور نے کمشنر سرگودھا کی گاڑی کو ہارن دے کر گاڑی کراس کی، جس کا ڈویژنل کمشنر نے برا منایا اور ماتحت افسران کو حکم دے کر گاڑی تھانہ میں بند کروا دی، ڈرائیور کا ہارن بجا کر گاڑی کراس کرنا اتنا بڑا جرم تھا کہ گاڑی اور ڈرائیور تین دن سے تھانہ ساجد شہید میں بند تھے، جس پر صحافی موصوف نے سیکرٹری آر ٹی اے اور ٹریفک پولیس کے ذمہ داران سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو سیکرٹری آر ٹی اے کا فون مسلسل آف تھا، جبکہ ڈی ایس پی ٹریفک نے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ جرمانہ یا چالان کر سکتے ہیں، ایمبولینس ٹریفک پولیس نے بند نہیں کی،صحافی ساتھی نے یہ سوچ کر کہ ڈرائیور کو تین دن ہو گئے ہیں کہ وہ حوالات میں بند ہے ، صحافی دوست نے خاتون کمشنر سرگودھا سے فون پر رابطہ کیا تو فون کمشنر کی بجائے کسی مرد نے اٹینڈ کیا، جس پر صحافی دوست نے اپنا تعارف کرایا اور انہیں ایک غریب کا مسئلہ بیان کرنا چاہا تو فون اٹینڈ کرنے والے نے ناگواری کا اظہار کیا اور پوچھا دیکھیں ٹائم کیا ہوا ہے جس پر صحافی دوست نے انہیں بتایا کہ ابھی رات کے 10 بجے ہیں، تو موصوف نے کہا کہ یہ کونسا وقت ہے کمشنر سے بات کرنے کا؟ جس پر صحافی ساتھی نے انہیں کہا کہ کمشنر تو 24 گھنٹے کمشنر ہوتا ہے مگر کسی غریب کو ریلیف دینے کیلئے آپ وقت پوچھنا شروع کر دیتے ہیں، جس پر کمشنر سرگودھا کا فون اٹینڈ کرنے والے شخص نے بیوروکریسی کا سا رویہ اپناتے ہوئے فون بند کر دیا، جس پر صحافی ساتھی نے انہیں واٹس ایپ پر میسج کیا کہ کمشنر صاحبہ خود پڑھ لیں گی اور اس غریب ڈرائیور کو چھوڑنے کا حکم بھی دے دیں گی کیونکہ تین دن گزر چکے ہیں اور کمشنر صاحبہ کا غصہ بھی ٹھنڈا پڑ گیا ہو گا۔ صبح اٹھ کر صحافی ساتھی نے دوبارہ پتہ کیا تو دوسرے دن 10 بجے بھی ڈرائیور حوالات میں تھا، جس پر افسوس ہوا کہ ڈرائیور کو ایک اور رات حوالات میں آ گئی ہے، جس پر سرگودھا کے صحافی ساتھی نے سیکرٹری آر ٹی اے سے رابطہ کیا تو موصوف نے لاعلمی کا اظہار کیا، جبکہ دیگر ذرائع اور اداروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایمبولینس اور ڈرائیور کو کمشنر سرگودھا کے کہنے پر تھانہ میں بند کیا گیا ہے، یہ خبر ٹی وی چینلز پر نشر ہوئی تو اس غریب ڈرائیور کی جان بخشی ہو گئی، قابل توجہ امر یہ ہے کہ بیوروکریسی میں اچھی شہرت کے حامل سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے سرکاری طور پر تردید جاری کی گئی کہ ایبٹ آباد سے براستہ خوشاب سرگودھا آنے والی ایمبولینس 1202-JF گاڑی ہائی ایس 15 سیٹر رجسٹرڈ تھی، جسے ایمبولینس کے طور پر استعمال کر کے قانون شکنی کی گئی، جس پر گاڑی تھانہ میں بند کی گئی،وضاحت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیس اور ٹرانسپورٹ انتظامیہ نے ڈرائیور کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے اسے معمولی جرمانہ کیا ہے، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیکرٹری آر ٹی اے صاحب پہلے تو آپ کو معاملے کا ہی علم نہیں تھا، سو یہ آپ کی مجبوری ہو گی، اگر واقعی ایسا تھا تو ڈرائیور سے پہلے دن ہی حسن سلوک برت کر اسے معمولی جرمانہ کر کے چھوڑ دیا جاتا، کیا چار دن تک ڈرائیور کو حوالات میں حبس بے جا میں رکھنا حسن سلوک ہے تو خدارا آئندہ ایسا حسن سلوک کسی نہ کیجئے گا کیونکہ آپ صاحب اختیار ہیں اگر ایسا ہی حسن سلوک کرتے رہے تو آئندہ کوئی ایمبولینس ڈرائیور دوسرے شہر سے کسی کی میت سرگودھا لے کر نہیں آئے گا؟ دوسری طرف ایمبولینس ڈرائیور کے ساتھ سرگودھا میں ناروا رویہ پر ایبٹ آبا دکے ایمبولینس ڈرائیوروں میں اضطراب پایا جا رہا تھا جونہی سرگودھا سے ایمبولینس ڈرائیور ایبٹ آباد پہنچا تو ایبٹ آباد کے ایمبولینس ڈرائیوروں نے خاتون کمشنر سرگودھا کے خلاف ایبٹ آباد کے اہم چوکوں میں سائرن بجا کر احتجاج کیا اور آزاد کشمیر حکومت کی وساطت سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے مطالبہ کیا کہ سرگودھا میں ایمبولینس ڈرائیور کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کی اعلی سطح پر تحقیقات کروائی جائے اور ایمبولینس ڈرائیور کے ساتھ نا مناسب رویہ اپنانے والے ذمہ دار افسران کیخلاف وزیر اعظم اپنے اس اعلان کے مطابق کہ اب کرپشن یا زیادتی کرنے والا کوئی افسر معطل ہونے کی بجائے نوکری سے برطرف ہو گا کارروائی عمل میں لائی جائے، ورنہ ایبٹ آباد میں ہر اتوار کمشنر سرگودھا کے خلاف ایمبولینسز ڈرائیور سائرن بجا کر احتجاج کرا کر حکمرانوں کو باور کراتے رہیں گے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم پاکستان اپنے اعلان کے مطابق سرگودھا کے اس واقعہ جس کا شور اب سرگودھا سے اٹھ کر ایبٹ آباد کی سڑکوں پر گونج رہا ہے کی اعلی سطح پر تحقیقات کروائیں گے یا پھر ایبٹ آباد کے ڈرائیور یونہی سائرن بجا کر شاہرائوں پر احتجاج کرتے رہیں گے؟


Dailyhunt
1607429001899.png


1607429035890.png




1607429049227.png



1607429143706.png




کمشنر سرگودھا نے ایمبولینس کو تھانے میں بند کرا دیا ایبٹ آباد سے میت لیکر سرگودھا آنیوالی ایمبولینس کو ہارن بجانے کی انوکھی کمشنر شاہپور میں سرکاری وزٹ پر گئیں تھیں
Posted on December 5, 2020 by Raza in قومی
IMG-20201205-WA0096.jpg



سرگودھا: حکومتیں بدل گئیں۔ بیوروکریسی کے کرتوت نہ بدلے میری گاڑی کو ہارن کیوں دیا ۔ کمشنر سرگودھا نے ایمبولینس کو تھانے میں بند کرا دیا ایبٹ آباد سے میت لیکر سرگودھا آنیوالی ایمبولینس کو ہارن بجانے کی انوکھی کمشنر شاہپور میں سرکاری وزٹ پر گئیں تھیں پیچھے سے آنیوالی ایمبولینس کا ہارن بجانے پر کمشنر صاحبہ کا شدید برہمی کا اظہار کمشنر ڈاکٹر فرح مسعود کے حکم پر ایمبولینس تھانہ ساجد شہید میں بند کر دی گئی ایمبولینس اور ڈرائیور کمشنر صاحبہ کے حکم پر ہارن بجانے پر تین دن سے تھانہ میں بند نئے پاکستان میں بھی بیوروکریسی کی بدمعاشیاں قائم
Comments
0
 
Last edited:
The curse on Pakistan more than politicians are these bureaucrats
This is prevalent in our psyche. People get behind ambulances as they clear the road for them.
Bureaucrats are another level though. The only training you get to be a bureaucrat is denigrating and abusing law abiding civilians.
 
The curse on Pakistan more than politicians are these bureaucrats
Actually, it is both; "You scratch my back and I will scratch yours "
Corrupt politicians and corrupt bureaucrats go hand in hand.
Any commissions from government contracts (biggest corruption opportunity) can only be done if both the "bureaucrat" the relevant Secretary/ DG/Commissioner and "politician" the relevant MPA, MNA, Minister/Chief Minister is on-board, both sit down with contractors finalize the terms of payments as to who will get what and when, and after that contracts are awarded.

If one of them is honest the other cannot get away with it.

For all the corruptions that have plagued us for the last 40 years both PML and PPP, bureaucrats were totally in bed with them, that is why initially the didn't let PTI work or kind of put shackles on them in the pretext of governmental procedures/paperwork, because a corruption-free politician is a death for these bureaucrats.
 
Why is The ambulance carrying the dead body, speeding, honking and passing cars? What's his hurry, if he makes it to the delivery address with in time limit they can revive the dead. The point is simple both parties were abusing their powers and both should be punished.
 
Pakistanis need to come together and build a harmonious unity, in order to work together and pull all our resources to work toward exterminating corruption in our midst. Join forces with like minded people, whose allegiance is to Allah Subhanahu Wata'aalah. Remember, when you come together to forge unity amongst yourselves, under Allah, you will find success against the enemies of Islam. It is important that as a Muslim, we come together to fight against these munafiqs. Work together, be united against these liars, thieves, murderers and traitors.
 
''ایمبولینس کا ہارن بجانے کی سزا''
c64fd24a4bb8375b55d47ecd14b70ed32c9456e24fd55853b99c20072cb38121.jpg


تحریر: اکرم عامر سرگودھا

پاکستان وہ ملک ہے جہاں جمہوریت ہو یا عسکری دور، ہر دور میں ملک میں افسر شاہی جسے بیوروکریسی کہتے ہیں کا راج ہوتا ہے، جو اس ملک میں سیاہ و سفید کی مالک ہے، بزرگ کہا کرتے تھے کہ گھوڑے کی پچھاڑی اور افسر کی اگاڑی سے بچنا چاہئے، کوئی پتہ نہیں گھوڑا عقب سے لات مار دے اور افسر کوئی ایسا حکم صادر فرما دے جو سامنے سے گزرنے والے کے لئے ہمیشہ کیلئے نقصان دہ ہو کر رہ جائے، پاکستان میں بیوروکریسی اتنی طاقتور ہے کہ سیاستدانوں کو بھی چکر دے کر رکھتی ہے، افسر شاہی جو چاہے اس ملک میں حکمرانوں سے منوا سکتی ہے سچ تو یہ ہے کہ ہر دور میں حکومتیں بنانے میں افسر شاہی کا اہم کردار رہا ہے، 4 دسمبر کی بات ہے کہ ایبٹ آباد پریس کلب کے نائب صدر نے سرگودھا کے صحافی شہزاد شیرازی کو فون کیا کہ ایبٹ آباد کا ایک ایمبولینس ڈرائیور آپ کے ضلع میں ڈیڈ باڈی لے کر گیا تھا پولیس نے اسے تھانہ کینٹ میں بغیر کسی مقدمہ کے بند کر دیا ہے، فون کرنے والے صحافی ساتھی کا کہنا تھا کہ ایمبو لینس ڈرائیور کے گھر والوں کے اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ سرگودھا آ کر ڈرائیور کو چھڑوا سکیں، جس پر سرگودھا کے صحافی دوست نے ایس ایچ او کینٹ کو فون کیا تو موصوف نے انہیں بتایا کہ گاڑی تھانہ ساجد شہید میں بند ہے، جس پر معلومات لی گئیں تو پتہ چلا کہ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی والوں نے یہ ایمبو لینس بند کروائی ہے، ڈرائیور موصوف کا جرم یہ ہے کہ خاتون کمشنر سرگودھا شاہپور کے دورہ پر تھیں کہ ایمبولینس کے ڈرائیور نے کمشنر سرگودھا کی گاڑی کو ہارن دے کر گاڑی کراس کی، جس کا ڈویژنل کمشنر نے برا منایا اور ماتحت افسران کو حکم دے کر گاڑی تھانہ میں بند کروا دی، ڈرائیور کا ہارن بجا کر گاڑی کراس کرنا اتنا بڑا جرم تھا کہ گاڑی اور ڈرائیور تین دن سے تھانہ ساجد شہید میں بند تھے، جس پر صحافی موصوف نے سیکرٹری آر ٹی اے اور ٹریفک پولیس کے ذمہ داران سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو سیکرٹری آر ٹی اے کا فون مسلسل آف تھا، جبکہ ڈی ایس پی ٹریفک نے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ جرمانہ یا چالان کر سکتے ہیں، ایمبولینس ٹریفک پولیس نے بند نہیں کی،صحافی ساتھی نے یہ سوچ کر کہ ڈرائیور کو تین دن ہو گئے ہیں کہ وہ حوالات میں بند ہے ، صحافی دوست نے خاتون کمشنر سرگودھا سے فون پر رابطہ کیا تو فون کمشنر کی بجائے کسی مرد نے اٹینڈ کیا، جس پر صحافی دوست نے اپنا تعارف کرایا اور انہیں ایک غریب کا مسئلہ بیان کرنا چاہا تو فون اٹینڈ کرنے والے نے ناگواری کا اظہار کیا اور پوچھا دیکھیں ٹائم کیا ہوا ہے جس پر صحافی دوست نے انہیں بتایا کہ ابھی رات کے 10 بجے ہیں، تو موصوف نے کہا کہ یہ کونسا وقت ہے کمشنر سے بات کرنے کا؟ جس پر صحافی ساتھی نے انہیں کہا کہ کمشنر تو 24 گھنٹے کمشنر ہوتا ہے مگر کسی غریب کو ریلیف دینے کیلئے آپ وقت پوچھنا شروع کر دیتے ہیں، جس پر کمشنر سرگودھا کا فون اٹینڈ کرنے والے شخص نے بیوروکریسی کا سا رویہ اپناتے ہوئے فون بند کر دیا، جس پر صحافی ساتھی نے انہیں واٹس ایپ پر میسج کیا کہ کمشنر صاحبہ خود پڑھ لیں گی اور اس غریب ڈرائیور کو چھوڑنے کا حکم بھی دے دیں گی کیونکہ تین دن گزر چکے ہیں اور کمشنر صاحبہ کا غصہ بھی ٹھنڈا پڑ گیا ہو گا۔ صبح اٹھ کر صحافی ساتھی نے دوبارہ پتہ کیا تو دوسرے دن 10 بجے بھی ڈرائیور حوالات میں تھا، جس پر افسوس ہوا کہ ڈرائیور کو ایک اور رات حوالات میں آ گئی ہے، جس پر سرگودھا کے صحافی ساتھی نے سیکرٹری آر ٹی اے سے رابطہ کیا تو موصوف نے لاعلمی کا اظہار کیا، جبکہ دیگر ذرائع اور اداروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایمبولینس اور ڈرائیور کو کمشنر سرگودھا کے کہنے پر تھانہ میں بند کیا گیا ہے، یہ خبر ٹی وی چینلز پر نشر ہوئی تو اس غریب ڈرائیور کی جان بخشی ہو گئی، قابل توجہ امر یہ ہے کہ بیوروکریسی میں اچھی شہرت کے حامل سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے سرکاری طور پر تردید جاری کی گئی کہ ایبٹ آباد سے براستہ خوشاب سرگودھا آنے والی ایمبولینس 1202-JF گاڑی ہائی ایس 15 سیٹر رجسٹرڈ تھی، جسے ایمبولینس کے طور پر استعمال کر کے قانون شکنی کی گئی، جس پر گاڑی تھانہ میں بند کی گئی،وضاحت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیس اور ٹرانسپورٹ انتظامیہ نے ڈرائیور کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے اسے معمولی جرمانہ کیا ہے، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیکرٹری آر ٹی اے صاحب پہلے تو آپ کو معاملے کا ہی علم نہیں تھا، سو یہ آپ کی مجبوری ہو گی، اگر واقعی ایسا تھا تو ڈرائیور سے پہلے دن ہی حسن سلوک برت کر اسے معمولی جرمانہ کر کے چھوڑ دیا جاتا، کیا چار دن تک ڈرائیور کو حوالات میں حبس بے جا میں رکھنا حسن سلوک ہے تو خدارا آئندہ ایسا حسن سلوک کسی نہ کیجئے گا کیونکہ آپ صاحب اختیار ہیں اگر ایسا ہی حسن سلوک کرتے رہے تو آئندہ کوئی ایمبولینس ڈرائیور دوسرے شہر سے کسی کی میت سرگودھا لے کر نہیں آئے گا؟ دوسری طرف ایمبولینس ڈرائیور کے ساتھ سرگودھا میں ناروا رویہ پر ایبٹ آبا دکے ایمبولینس ڈرائیوروں میں اضطراب پایا جا رہا تھا جونہی سرگودھا سے ایمبولینس ڈرائیور ایبٹ آباد پہنچا تو ایبٹ آباد کے ایمبولینس ڈرائیوروں نے خاتون کمشنر سرگودھا کے خلاف ایبٹ آباد کے اہم چوکوں میں سائرن بجا کر احتجاج کیا اور آزاد کشمیر حکومت کی وساطت سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے مطالبہ کیا کہ سرگودھا میں ایمبولینس ڈرائیور کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کی اعلی سطح پر تحقیقات کروائی جائے اور ایمبولینس ڈرائیور کے ساتھ نا مناسب رویہ اپنانے والے ذمہ دار افسران کیخلاف وزیر اعظم اپنے اس اعلان کے مطابق کہ اب کرپشن یا زیادتی کرنے والا کوئی افسر معطل ہونے کی بجائے نوکری سے برطرف ہو گا کارروائی عمل میں لائی جائے، ورنہ ایبٹ آباد میں ہر اتوار کمشنر سرگودھا کے خلاف ایمبولینسز ڈرائیور سائرن بجا کر احتجاج کرا کر حکمرانوں کو باور کراتے رہیں گے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم پاکستان اپنے اعلان کے مطابق سرگودھا کے اس واقعہ جس کا شور اب سرگودھا سے اٹھ کر ایبٹ آباد کی سڑکوں پر گونج رہا ہے کی اعلی سطح پر تحقیقات کروائیں گے یا پھر ایبٹ آباد کے ڈرائیور یونہی سائرن بجا کر شاہرائوں پر احتجاج کرتے رہیں گے؟


Dailyhunt
View attachment 694177

View attachment 694178



View attachment 694179


View attachment 694180



کمشنر سرگودھا نے ایمبولینس کو تھانے میں بند کرا دیا ایبٹ آباد سے میت لیکر سرگودھا آنیوالی ایمبولینس کو ہارن بجانے کی انوکھی کمشنر شاہپور میں سرکاری وزٹ پر گئیں تھیں
Posted on December 5, 2020 by Raza in قومی
IMG-20201205-WA0096.jpg



سرگودھا: حکومتیں بدل گئیں۔ بیوروکریسی کے کرتوت نہ بدلے میری گاڑی کو ہارن کیوں دیا ۔ کمشنر سرگودھا نے ایمبولینس کو تھانے میں بند کرا دیا ایبٹ آباد سے میت لیکر سرگودھا آنیوالی ایمبولینس کو ہارن بجانے کی انوکھی کمشنر شاہپور میں سرکاری وزٹ پر گئیں تھیں پیچھے سے آنیوالی ایمبولینس کا ہارن بجانے پر کمشنر صاحبہ کا شدید برہمی کا اظہار کمشنر ڈاکٹر فرح مسعود کے حکم پر ایمبولینس تھانہ ساجد شہید میں بند کر دی گئی ایمبولینس اور ڈرائیور کمشنر صاحبہ کے حکم پر ہارن بجانے پر تین دن سے تھانہ میں بند نئے پاکستان میں بھی بیوروکریسی کی بدمعاشیاں قائم
Comments
0
Habitually we attach such behaviour/attitude in Pakistan to illiteracy, with ignorance towards our social fabric which is deteriorating.
Is this shameless officer is illiterate?
She lacks humanity and it's values.
 
Why government officials and rich people are fairer in color than those they oppress in Pakistan?

Some sort of race based system is out there which cannot be highlighted nor identified
 
Why is The ambulance carrying the dead body, speeding, honking and passing cars? What's his hurry, if he makes it to the delivery address with in time limit they can revive the dead. The point is simple both parties were abusing their powers and both should be punished.
You do understand that you cannot keep the body in open for long as it will start to decompose. We donot have cold storages or vehicles to carry dead. They body was being carried from Abbotabad to Sargodha which is quite a journey. This said proper investigations should be done as ambulance drivers also have a habit of honking even when empty.
 
''ایمبولینس کا ہارن بجانے کی سزا''
c64fd24a4bb8375b55d47ecd14b70ed32c9456e24fd55853b99c20072cb38121.jpg


تحریر: اکرم عامر سرگودھا

پاکستان وہ ملک ہے جہاں جمہوریت ہو یا عسکری دور، ہر دور میں ملک میں افسر شاہی جسے بیوروکریسی کہتے ہیں کا راج ہوتا ہے، جو اس ملک میں سیاہ و سفید کی مالک ہے، بزرگ کہا کرتے تھے کہ گھوڑے کی پچھاڑی اور افسر کی اگاڑی سے بچنا چاہئے، کوئی پتہ نہیں گھوڑا عقب سے لات مار دے اور افسر کوئی ایسا حکم صادر فرما دے جو سامنے سے گزرنے والے کے لئے ہمیشہ کیلئے نقصان دہ ہو کر رہ جائے، پاکستان میں بیوروکریسی اتنی طاقتور ہے کہ سیاستدانوں کو بھی چکر دے کر رکھتی ہے، افسر شاہی جو چاہے اس ملک میں حکمرانوں سے منوا سکتی ہے سچ تو یہ ہے کہ ہر دور میں حکومتیں بنانے میں افسر شاہی کا اہم کردار رہا ہے، 4 دسمبر کی بات ہے کہ ایبٹ آباد پریس کلب کے نائب صدر نے سرگودھا کے صحافی شہزاد شیرازی کو فون کیا کہ ایبٹ آباد کا ایک ایمبولینس ڈرائیور آپ کے ضلع میں ڈیڈ باڈی لے کر گیا تھا پولیس نے اسے تھانہ کینٹ میں بغیر کسی مقدمہ کے بند کر دیا ہے، فون کرنے والے صحافی ساتھی کا کہنا تھا کہ ایمبو لینس ڈرائیور کے گھر والوں کے اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ سرگودھا آ کر ڈرائیور کو چھڑوا سکیں، جس پر سرگودھا کے صحافی دوست نے ایس ایچ او کینٹ کو فون کیا تو موصوف نے انہیں بتایا کہ گاڑی تھانہ ساجد شہید میں بند ہے، جس پر معلومات لی گئیں تو پتہ چلا کہ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی والوں نے یہ ایمبو لینس بند کروائی ہے، ڈرائیور موصوف کا جرم یہ ہے کہ خاتون کمشنر سرگودھا شاہپور کے دورہ پر تھیں کہ ایمبولینس کے ڈرائیور نے کمشنر سرگودھا کی گاڑی کو ہارن دے کر گاڑی کراس کی، جس کا ڈویژنل کمشنر نے برا منایا اور ماتحت افسران کو حکم دے کر گاڑی تھانہ میں بند کروا دی، ڈرائیور کا ہارن بجا کر گاڑی کراس کرنا اتنا بڑا جرم تھا کہ گاڑی اور ڈرائیور تین دن سے تھانہ ساجد شہید میں بند تھے، جس پر صحافی موصوف نے سیکرٹری آر ٹی اے اور ٹریفک پولیس کے ذمہ داران سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو سیکرٹری آر ٹی اے کا فون مسلسل آف تھا، جبکہ ڈی ایس پی ٹریفک نے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ جرمانہ یا چالان کر سکتے ہیں، ایمبولینس ٹریفک پولیس نے بند نہیں کی،صحافی ساتھی نے یہ سوچ کر کہ ڈرائیور کو تین دن ہو گئے ہیں کہ وہ حوالات میں بند ہے ، صحافی دوست نے خاتون کمشنر سرگودھا سے فون پر رابطہ کیا تو فون کمشنر کی بجائے کسی مرد نے اٹینڈ کیا، جس پر صحافی دوست نے اپنا تعارف کرایا اور انہیں ایک غریب کا مسئلہ بیان کرنا چاہا تو فون اٹینڈ کرنے والے نے ناگواری کا اظہار کیا اور پوچھا دیکھیں ٹائم کیا ہوا ہے جس پر صحافی دوست نے انہیں بتایا کہ ابھی رات کے 10 بجے ہیں، تو موصوف نے کہا کہ یہ کونسا وقت ہے کمشنر سے بات کرنے کا؟ جس پر صحافی ساتھی نے انہیں کہا کہ کمشنر تو 24 گھنٹے کمشنر ہوتا ہے مگر کسی غریب کو ریلیف دینے کیلئے آپ وقت پوچھنا شروع کر دیتے ہیں، جس پر کمشنر سرگودھا کا فون اٹینڈ کرنے والے شخص نے بیوروکریسی کا سا رویہ اپناتے ہوئے فون بند کر دیا، جس پر صحافی ساتھی نے انہیں واٹس ایپ پر میسج کیا کہ کمشنر صاحبہ خود پڑھ لیں گی اور اس غریب ڈرائیور کو چھوڑنے کا حکم بھی دے دیں گی کیونکہ تین دن گزر چکے ہیں اور کمشنر صاحبہ کا غصہ بھی ٹھنڈا پڑ گیا ہو گا۔ صبح اٹھ کر صحافی ساتھی نے دوبارہ پتہ کیا تو دوسرے دن 10 بجے بھی ڈرائیور حوالات میں تھا، جس پر افسوس ہوا کہ ڈرائیور کو ایک اور رات حوالات میں آ گئی ہے، جس پر سرگودھا کے صحافی ساتھی نے سیکرٹری آر ٹی اے سے رابطہ کیا تو موصوف نے لاعلمی کا اظہار کیا، جبکہ دیگر ذرائع اور اداروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایمبولینس اور ڈرائیور کو کمشنر سرگودھا کے کہنے پر تھانہ میں بند کیا گیا ہے، یہ خبر ٹی وی چینلز پر نشر ہوئی تو اس غریب ڈرائیور کی جان بخشی ہو گئی، قابل توجہ امر یہ ہے کہ بیوروکریسی میں اچھی شہرت کے حامل سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے سرکاری طور پر تردید جاری کی گئی کہ ایبٹ آباد سے براستہ خوشاب سرگودھا آنے والی ایمبولینس 1202-JF گاڑی ہائی ایس 15 سیٹر رجسٹرڈ تھی، جسے ایمبولینس کے طور پر استعمال کر کے قانون شکنی کی گئی، جس پر گاڑی تھانہ میں بند کی گئی،وضاحت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیس اور ٹرانسپورٹ انتظامیہ نے ڈرائیور کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے اسے معمولی جرمانہ کیا ہے، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیکرٹری آر ٹی اے صاحب پہلے تو آپ کو معاملے کا ہی علم نہیں تھا، سو یہ آپ کی مجبوری ہو گی، اگر واقعی ایسا تھا تو ڈرائیور سے پہلے دن ہی حسن سلوک برت کر اسے معمولی جرمانہ کر کے چھوڑ دیا جاتا، کیا چار دن تک ڈرائیور کو حوالات میں حبس بے جا میں رکھنا حسن سلوک ہے تو خدارا آئندہ ایسا حسن سلوک کسی نہ کیجئے گا کیونکہ آپ صاحب اختیار ہیں اگر ایسا ہی حسن سلوک کرتے رہے تو آئندہ کوئی ایمبولینس ڈرائیور دوسرے شہر سے کسی کی میت سرگودھا لے کر نہیں آئے گا؟ دوسری طرف ایمبولینس ڈرائیور کے ساتھ سرگودھا میں ناروا رویہ پر ایبٹ آبا دکے ایمبولینس ڈرائیوروں میں اضطراب پایا جا رہا تھا جونہی سرگودھا سے ایمبولینس ڈرائیور ایبٹ آباد پہنچا تو ایبٹ آباد کے ایمبولینس ڈرائیوروں نے خاتون کمشنر سرگودھا کے خلاف ایبٹ آباد کے اہم چوکوں میں سائرن بجا کر احتجاج کیا اور آزاد کشمیر حکومت کی وساطت سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے مطالبہ کیا کہ سرگودھا میں ایمبولینس ڈرائیور کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کی اعلی سطح پر تحقیقات کروائی جائے اور ایمبولینس ڈرائیور کے ساتھ نا مناسب رویہ اپنانے والے ذمہ دار افسران کیخلاف وزیر اعظم اپنے اس اعلان کے مطابق کہ اب کرپشن یا زیادتی کرنے والا کوئی افسر معطل ہونے کی بجائے نوکری سے برطرف ہو گا کارروائی عمل میں لائی جائے، ورنہ ایبٹ آباد میں ہر اتوار کمشنر سرگودھا کے خلاف ایمبولینسز ڈرائیور سائرن بجا کر احتجاج کرا کر حکمرانوں کو باور کراتے رہیں گے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم پاکستان اپنے اعلان کے مطابق سرگودھا کے اس واقعہ جس کا شور اب سرگودھا سے اٹھ کر ایبٹ آباد کی سڑکوں پر گونج رہا ہے کی اعلی سطح پر تحقیقات کروائیں گے یا پھر ایبٹ آباد کے ڈرائیور یونہی سائرن بجا کر شاہرائوں پر احتجاج کرتے رہیں گے؟


Dailyhunt
View attachment 694177

View attachment 694178



View attachment 694179


View attachment 694180



کمشنر سرگودھا نے ایمبولینس کو تھانے میں بند کرا دیا ایبٹ آباد سے میت لیکر سرگودھا آنیوالی ایمبولینس کو ہارن بجانے کی انوکھی کمشنر شاہپور میں سرکاری وزٹ پر گئیں تھیں
Posted on December 5, 2020 by Raza in قومی
IMG-20201205-WA0096.jpg



سرگودھا: حکومتیں بدل گئیں۔ بیوروکریسی کے کرتوت نہ بدلے میری گاڑی کو ہارن کیوں دیا ۔ کمشنر سرگودھا نے ایمبولینس کو تھانے میں بند کرا دیا ایبٹ آباد سے میت لیکر سرگودھا آنیوالی ایمبولینس کو ہارن بجانے کی انوکھی کمشنر شاہپور میں سرکاری وزٹ پر گئیں تھیں پیچھے سے آنیوالی ایمبولینس کا ہارن بجانے پر کمشنر صاحبہ کا شدید برہمی کا اظہار کمشنر ڈاکٹر فرح مسعود کے حکم پر ایمبولینس تھانہ ساجد شہید میں بند کر دی گئی ایمبولینس اور ڈرائیور کمشنر صاحبہ کے حکم پر ہارن بجانے پر تین دن سے تھانہ میں بند نئے پاکستان میں بھی بیوروکریسی کی بدمعاشیاں قائم
Comments
0


Wow...

Park an ambulance outside her house and let the horn go on...better yet, put her in a cell for 24 hours with nothing but a ambulance horn being blown...

Next time she won't even notice it. :D
 
Wow...

Park an ambulance outside her house and let the horn go on...better yet, put her in a cell for 24 hours with nothing but a ambulance horn being blown...

Next time she won't even notice it. :D
house are you sure ? she has biggest gov house of all the bureaucracy she is living in 104 kanals house . if you horn from gate it will not reach lawn .

درجنوں ملازم ،کئی کنال کی کوٹھی وہ سرکاری ملازم جن کے ٹھاٹھ بھاٹ دیکھ کر آپ بھی ششدر رہ جائینگے

منگل‬‮ 8 دسمبر‬‮ 2020 | 18:10

سرگودھا(این این آئی)کمشنر سرگودھا کی 104کنال پر کوٹھی ملک میں سرکاری افسر کی سب سے بڑی رہائشگاہوں میں سے ایک ہے جہاں 33ملازم کام کرتے ہیں ۔ذرائع کے مطابق کمشنر سرگودھا ڈاکٹر فرح مسعود کے زیر استعمال سرکاری کوٹھی 104 کنال پر محیط ہے یہ پاکستان میں کسی سرکاری ملازم کی سب سے بڑی رہائش گاہ ہے جہاں پر 33ملازم کام کرتے ہیں۔دوسرے نمبر پر ایس ایس پی ساہیوال کی کوٹھی ہے جس کا رقبہ 98کنال ہے ،ڈی سی میانوالی کی کوٹھی کا سائز 95کنال اور ڈی سی



فیصل آباد کی رہائش گاہ 92کنال پرمحیط ہے ۔ پنجاب پولیس میں ڈی آئی جی گوجرانوالہ 70کنال، ڈی آئی جی سرگودھا 40کنال،ڈی آئی جی راولپنڈی 20کنال ،ڈی آئی جی فیصل آباد20کنال ،ڈی آئی جی ڈیرہ غازی خان اور ڈی آئی جی ملتان 18کنال اور ڈی آئی جی لاہور15کنال کے محلات میں رہتے ہیں۔ ایس ایس پی میانوالی 70کنال،ایس ایس پی قصور20کنال،ایس ایس پی شیخوپورہ32کنال،ایس ایس پی گوجرانوالہ 25کنال،ایس ایس پی گجرات 8کنال،ایس ایس پی حافظ آباد10کنال، ایس ایس پی سیالکوٹ 9کنال، ایس ایس پی جھنگ18کنال،ایس ایس پی ٹوبہ ٹیک سنگھ5کنال، ایس ایس پی ملتان13کنال،ایس ایس پی وہاڑی 20کنال ،ایس ایس پی خانیوال 15کنال ،ایس ایس پی پاکپتن 14کنال ،ایس ایس پی بہاولپور15کنال ،ایس ایس پی بہاولنگر 32کنال ،ایس ایس پی رحیم یارخان 22کنال ،ایس ایس پی لیہ 6کنال ،ایس ایس پی راولپنڈی5کنال،ایس ایس پی چکوال 10کنال ،ایس ایس پی جہلم 6کنال ،ایس ایس پی اٹک 29کنال ،ایس ایس پی خوشا ب 6کنال ،ایس ایس پی بھکر8کنال،ایس ایس پی راجن پور37کنال اور ایس ایس پی نار ووال10کنال کے سرکاری گھروں میں رہائش پذیرہیں۔

 

Users Who Are Viewing This Thread (Total: 1, Members: 0, Guests: 1)


Back
Top Bottom